داد بیداد….. ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی……پرا جیکٹ لیڈر – Dadbedad Online

Breaking News

Home / مضامین / داد بیداد….. ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی……پرا جیکٹ لیڈر

داد بیداد….. ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی……پرا جیکٹ لیڈر

صوبہ خیبر پختونخوا کی حکومت نے ضلع، تحصیل اور مقا می کونسلوں کو روان ما لی سال کا بجٹ منظور کرنے کی ہدا یت کی ہے مقا می حکو متوں کی مو جودہ مدت 25اگست 2019کو ختم ہو رہی ہے مدت ختم ہونے کے بعد ایڈ منسٹریٹر مقر ر کئے جائینگے نئے انتخا بات کے لئے تا ریخ دی جائے گی اور اس اثنا ء میں مو جو دہ کونسلوں کی طرف سے منظور کیا گیا بجٹ خر چ ہو گا 2015ء میں صو بائی حکومت نے مقا می حکومتوں کا جو نیا نظام متعا رف کرا یا اس میں نیبر ہُڈ کونسل اورویلج کونسل کا تصور بہت مثا لی تصور تھا 4ہزار سے لیکر 6ہزار تک کی آبادی کو تر قی کے عمل کا بنیاد ی یو نٹ تسلیم کرکے سر کاری وسائل اس یو نٹ کو دینے سے عوامی مسا ئل کے حل کی اُمید پیدا ہو گئی تھی ہماری تر قیا تی ایجنسیوں میں جو پرو گرام نا کامی سے دو چار ہو جائیں ان کو سیکھے ہوئے اسباق (Lessons learnt) کے خا نے میں درج کیا جا تا ہے نیبر ہُڈ کونسلوں اور ویلج کونسلوں کا انقلا بی نظام اس وجہ سے نا کام ہوا کہ تر قیا تی منصو بوں میں اخباری اشتہار، ٹینڈر اور ٹھیکہ داری سسٹم کو لا زمی قرار دیا گیا اس کی جگہ اعتماد، ٹرسٹ، اعتبار اور بھائی چارے کی بنیاد پر پرا جیکٹ لیڈر کے ذریعے تر قیا تی کام کر وانے کا سابقہ طریقہ آزما یا جا تا تو اس کے خا طر خواہ نتا ئج برآمد ہوتے ویلج اور نیبر ہُڈ کونسلوں کے نا ظمین نے باربار احتجاج اوراخباری بیا نات کے ذریعے حکومت کی توجہ اس امر کی طرف مبذول کی ہے کہ ٹینڈر ما فیا اور ٹھیکہ داری سسٹم سے ان کی جاں چھڑا ئی جائے اس کی نسبت پرا جیکٹ لیڈر کے ذریعے سکیم پر عمل در آمد کا پرانا قا نون زیا دہ شفاف، قابل عمل، سود مند اور بہتر تھا 6ہزار کی آبا دی میں اگر ایک سہ ما ہی کی 12سکیمیں آتی ہیں تو ان کے لئے 60افراد کی 12کمیٹیاں بنیگی ہر کمیٹی کو پرا جیکٹ کمیٹی کا نام دیا جائے گا اُس کا ایک لیڈر ہو گا وہ پرا جیکٹ لیڈر کہلا ئے گا اُس کے نا م چیک جاری ہو گا عوام کے سامنے بھی وہی جوابدہ ہو گا اور آڈٹ کے لئے بھی وہی جواب دے گا اس میں رکا وٹ کیا ہے؟ اعتماد،اعتبار اور بھروسے کا فقدان ہے ایک چور دوسرے کوچور سمجھتا ہے مشہور حکا یت ہے باد شاہ کی اکلو تی بیٹی کے زیورات چوری ہو گئے تین مشکوک بندے پکڑے گئے تینوں کو قا ضی کے سامنے پیش کیاگیا قا ضی نے کہا ان سے میری بیٹی سوا لات پو چھے گی وہی تفتیش کرے گی قا ضی کی بیٹی نے تینوں کو ایک حکا یت سُنا ئی ایک حسین و جمیل لڑ کی چروا ہے کے بیٹے سے پیار کر تی تھی اُس کی شادی باد شاہ کے بیٹے سے ہو گئی اس نے چروا ہے کے بیٹے سے وعدہ کیا کہ سہاگ رات پلنگ پر جا نے سے پہلے دلہن کے لباس میں زیورات پہن کر تمہارے پا س آو نگی سہا گ رات اُس نے شہزادے کو یہ واقعہ سنا یا اور جا نے کی اجا زت مانگی،شہزادے نے اجا زت دیدی، راستے میں ڈا کو وں نے نا کہ ڈا لا، دلہن کے گرد گھیرا ڈا لا، زیو رات اچک لئے ڈا کو وں کے سردار نے پو چھا اکیلی کدھر جارہی ہو؟ دلہن نے سارا واقعہ سنا یا ڈا کووں کے سردار نے کہا اس کے شوہر نے شہزادہ ہونے کے باو جود اتنی قر بانی دی ہے تم بھی تھوڑی سی قر بانی دواور زیو رات واپس کرو دلہن چروا ہے کے گھر پہنچی چر وا ہے کے بیٹے سے کہا دیکھو میں اپنا وعدہ نبھا نے آئی ہو ں چرو اہے کے بیٹے نے کہا تم میری قیا مت تک کی بہن ہو، میں تمہیں بحفا ظت باد شاہ کے محل تک پہنچا و نگا قاضی کی بیٹی نے پو چھا بتاؤشہزا دے نے بڑی قر بانی دی، ڈاکووں نے بڑی قر بانی دی یا چر وا ہے کے بیٹے نے کمال دکھا یا؟ اُن میں سے جس نے شہزا دی کے زیورات چرائے تھے اُس نے کہا ڈا کووں نے بڑی قر بانی دی قا ضی کی بیٹی نے کہا اس کی تلا شی لو چنا نچہ چور پکڑا گیا اورزیورات بر آمد ہوئے آج بھی اوپر کا چور یہ سمجھتا ہے کہ گاوں کی سطح پر بھی چور ہی بیٹھے ہوئے ہیں حا لانکہ ایسا نہیں ہے پر اجیکٹ لیڈر سو فیصد درست کا م کر تا ہے اور فنڈ کا نہا یت منا سب استعمال کر تا ہے کیونکہ گاوں کی سڑک ہو، یا نہر ہو، محلے کا نلکا ہو یا محلے کی نا لی اور پگڈنڈی ہو، پرا جیکٹ لیڈر استفادہ کرنے وا لو ں میں شا مل ہے اورلو گوں کے سامنے بھی جواب دہ ہے مقا می حکو متوں کے اگلے مر حلے کے لئے جو قا نون سازی ہو ئی ہے اُس میں تر میم کرکے پرا جیکٹ لیڈر کی گنجا ئش ضرور ڈا لنی چا ہئیے وزیر بلدیات شہرام خان تر ہ کئی عملیت پسند (پریکٹیکل) انسان ہیں ان کو فنڈ کے جا ئز استعمال کا تجربہ بھی ہے ملک خد ابخش بچہ مر حوم ان کے وا لد صا حب کے دوست تھے اور بھٹو کے دورمیں کچھ عرصہ زراعت کے لئے وزیر اعظم کے معا ون خصو صی بھی رہے انہوں نے ایک وا قعہ سنا یا کہ جب میں پہلی دفعہ سول سرونٹ کی حیثیت سے اقوام متحدہ کی ایک کمیٹی کی میٹنگ میں گیا تو اپنے ساتھ ٹکٹ اور ہوٹل کی رسید وں کا پلندہ لے گیا آخری دن انہوں نے سفر خرچ تقسیم کرنے کے لئے بلا یا تو میں نے وہی پلندہ ان کے سامنے رکھا متعلقہ افیسر نے کہا یہ کا غذات ردی کی ٹو کری میں پھینکو مجھے رقم بتاؤ کتنا خر چہ آیا ہے میں نے کہا 22ہزار ڈا لر، اُس نے 22ہزار ڈا لر تھما دیے اور مجھ سے ایک کا غذ پہ دستخط کروا یا اُن کو بھر و سہ تھا کہ یہ افیسر جھوٹ نہیں بو لے گا کیونکہ و ہ خود جھوٹا نہیں تھا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ ویلج اور نیبر ہُڈ کونسل پر اعتماد کروگے اور گاوں وا لوں پر بھرو سہ کرو گے توتم خود بھی قا بل اعتماد اور قا بل بھر و سہ نظر آو گے اورتر قیا تی فنڈ ٹھیکہ دار کو دینے کے بجا ئے پرا جیکٹ لیڈر کو دے سکو گے اس طرح اگلے بلدیا تی نظام میں مقا می حکومتوں کا بنیا دی یو نٹ نیبر ہُڈ اور ویلج کو نسل عوام میں کامیا بی کے ریکارڈ قائم کرے گی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے