داد بیداد ……ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی …….سر سید کے مخا لفین کی بصیرت  – Dadbedad Online

Breaking News

Home / مضامین / داد بیداد ……ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی …….سر سید کے مخا لفین کی بصیرت 

داد بیداد ……ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی …….سر سید کے مخا لفین کی بصیرت 

بھارتی انتخا بات کے تا زہ ترین نتا ءج نے دو قو می نظر یے پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے سر سید احمد خان نے 1886ء میں دو قو می نظر یہ پیش کیا تو مخا لفین نے اس کو بے بنیاد قرار دیا نواب محسن الملک ، نواب وقار الملک اور آغا خان سوم نے 1906ء میں دو قو می نظریے کے دفاع کے لئے مسلما نوکی الگ سیا سی جما عت آل انڈیا مسلم لیگ کی بنیاد رکھی تو مخا لفین نے اس کو دیوا نے کا خواب قرار دیا 1931ء میں علامہ اقبال نے بر صغیر میں مسلما نوں کے لئے الگ وطن اور ملک کا مطا لبہ کیا تو مخا لفین نے اس کو ہندو ستان کی تقسیم کا ایجنڈا قرار دے کر مسترد کیا 1940 میں با بائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح نے پا کستان کے قیام کا مطا لبہ کیا تو مخا لفین نے اس مطا لبے کے جواب میں کہا کہ اس طرح مسلما نوں کو کمزور کر نے کی سازش ہو رہی ہے جب کہ متحدہ ہندوستان میں مسلمان طا قت حا صل کرینگے مئی 2019ء میں بھارتی انتخا بات میں بھارتی لوک سبھا کی 540سیٹوں والی اسمبلی میں صرف 22مسلمان کامیاب ہوئے ہیں جن میں 20مر د اور 2خوا تین ارا کین ہیں دو نوں خوا تین کا تعلق مغر بی بنگا ل سے ہے اس صو بے مین مسلما نوں کی سیٹوں میں 50%کمی ہو ئی ہے اسطرح پنجا ب ، کشمیر ،اتر پر دیش ،اندھرا پر دیش میں بھی مسلما نوں کی سیٹیں گزشتہ انتخا بات کے مقا بلے میں کم ہو ئی ہیں آزا دی کے بعد پہلی اسمبلی میں مسلما نوں کو 11سیٹیں ملی تھیں اس کے بعد ہر انتخا بات میں مسلمان ارا کین کی تعداد 22سے اوپر ہی ہو تی تھی سب سے زیا دہ تعداد 1980ء مین کامیاب ہوئی تھی جب 49مسلم اراکین لوک سبھا میں آئے تھے یہ دوسری بار ایسا ہوا ہے کہ مسلمانوں کی کامیا بی کا گراف نیچے گرا ہے کامیاب ہونے والے مسلمان بی جے پی ، سماج وادی پارٹی ، یو ناءٹیڈ ڈیمو کریٹک فرنٹ ، کانگرس ، نیشنل کانفرنس اور مجلس اتحاد المسلمین کے ٹکٹوں پر کامیاب ہوئے ہیں کامیاب ہونے والے نما یاں اراکین میں کشمیر سے فاروقی عبد اللہ ، تلنگا نہ سے اعظم خان ، مغر بی بنگا ل سے نصرت جہاں ، آسام سے بدر الدین اجمل ،تلنگا نہ سے اسد الدےن اوےسی پنجاب اور مہا راشٹر سے محمد صادق اور امتےاز جلےل شامل ہےں بھارتی لوگ سبھا کے گنے چنے 22 اراکےن کا مقابلہ پاکستان کی قومی اسمبلی مےں مسلم اراکےن کی تعداد سے کر ےں تو سر سےد ا حمد خان کے موقف اور ان کی بصےر ت کی تا ئےد ہو تی ہے مخالفےن کے تمام دلا ئل مسترد ہو تے ہےں آج پاکستان کی 342 سےٹوں والی قومی اسمبلی مےں 97 فےصد مسلما ن اراکےن منتخب ہو کر آتے ہےں بھارتی پارلےمان مےں ےہ شرح صرف 4 فےصد رہ گئی ہے سر سےد احمد خان نے ڈےڑھ سو سال پہلے اس کا اند ازہ لگا لےا تھا اُن کے مخالفےن اس بات کو سمجھنے اور اس کا ادراک کر نے مےں نا کام ہو ئے تھے آج بھارت مےں کانگر ےس کے ٹکٹ پر محمد صادق اگرچہ اےک بار پھر لوک سبھا مےں پہنچے ہےں مگر بی جے پی کی اکثر ےت کے سامنے ان کی آواز نقا رخانے مےں طو طے کی آواز بن کر رہے گی جمعےتہ العلما ئے ہند ، مجلس احرار اور خاکسار تحر ےک کے ٹکٹ پر کوئی مسلما ن رکن پارلےمنٹ مےں نہےں آتا مجلس اتحاد المسلمےن کا نام پارلےمنٹ مےں مو جو د ہے تاہم نئے دور کے تقاضوں کو سامنے رکھ کر مسلما نوں کے مختلف فرقوں کے باہمی اتحاد کی اےسی صورت ہے جےسی ہمارے ہا ں کھبی کھبار متحد ہ مجلس عمل کی صورت مےں سامنے آتی ہے ےہ بھی عجےب اتفاق ہے کہ دارالعلوم دےو بند کے جےد علما ئے کرام بھارت مےں سےکولر زم کی حماےت کر تے ہےں آپ بڑے بڑے جلسوں مےں علما ء کی تقا رےر اور قر ار دادےں سُن لےں تو آپ کو ےہ جا ن کر حےرت ہو تی ہے کہ علما ئے کرام کا جو ہراول دستہ پاکستان مےں سےکو لرزم کا شد ےد مخالف ہے وہی طبقہ سرحد کے اُس پار بھارت مےں سےکولر زم کی شد ومد کے ساتھ حماےت کر تا ہے اگر سر سےد احمد خان کا دو قومی نظر ےہ نا کام ہو جاتا اور پاکستان نہ بنتا تو کےا صورت حال ہو تی ;238; مغر بی بنگال سے لےکر خےبر پختونخوا ہ ، بلوچستان اور سندھ ، پنجاب تک سارے علما ئے کرام سےکو لرزم کی حماےت مےں جان ، من ، تن او ردھن کی بازی لگا رہے ہو تے بھارتی لوک سبھاکے ہر انتخا بات مےں سر سےد احمد خان کے مخالفےن کے لئے ایک سبق ہوتا ہے جو ہتھو ڑا بن کر اُن کے سر وں پر مسلسل برستا ہے تا زہ ترین انتخا بات میں بہت بڑا سبق ہے جب ہندو ذہنیت پو ری طرح آشکار ہو کر سامنے آگئی ہے سر سید احمد خان،علامہ اقبال ، محمد علی جناح ، ابو لکلام آزاد، علا مہ عنا یت اللہ مشرقی ، خان عبدالغفار خان ، سید عطا ء اللہ شاہ بخا ری اور دیگر مسلمان زعما ء کو ہندوں کی ذہنیت کا اندا زہ یکساں طور پر ہونا چاہئے تھا سب ایک ہی ما حول کے لو گ تھے پھر کیا وجہ ہے کہ سر سید احمد خان نے ہندوں کی ذہنیت کا اندا زہ لگا لیا اُن کی بصیرت نے ہندو اکثریت والے ملک میں مسلما نوں کے مستقبل کی تصویر اپنی بصیرت کی آنکھ سے دیکھ لی علامہ اقبال اور محمد علی جناح نے دیکھ لی جبکہ مو لا نا ابو الکلام آزاد اور اُن کے ہمنوا دیکھنے میں نا کام رہے آج ہ میں نئی نسل کو یہ بات ذہن نشین کر انے کی ضرورت ہے کہ پا کستان نہ بنتا تو پشاور ، پنڈی ، گوجرانوالہ ، سانگھڑ اور کوءٹہ سے بھی ہندو انتہا پسند جما عت بی جے پی کا میاب ہو تی اور چاروں صو بوں سے مسلما نوں کو تانگے مانگے کی 22سیٹیں ہی مل جا تیں ہمارا وزیر اعلیٰ کوئی پنڈت ہوتا اور ہمارا وزیر اعظم بھی کوئی ہندو ہوتا پاکستان کی ا س مملکت کو اللہ تعا لیٰ کی نعمت سمجھ کر اس کا شکر ادا کرنا چا ہئیے سر سید احمد خان، علا مہ اقبال اور محمد علی جناح کو دعا ئیں دینی چا ہئیے ;242;

ہم لائیں ہیں طو فان سے کشتی نکا ل کے

اس ملک کو رکھنا میرے بچو سنبھا ل کے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے