لوکل گورنمنٹ کے اسسٹنٹ ڈائرکٹر فہیم الجلال کرڑوں روپے کے کرپشن میں ملوث ہے تحقیقات کی جائے ،محمد ھارو ن کا پریس کانفرنس  – Dadbedad Online

Breaking News

Home / نیوز اپڈیٹ / لوکل گورنمنٹ کے اسسٹنٹ ڈائرکٹر فہیم الجلال کرڑوں روپے کے کرپشن میں ملوث ہے تحقیقات کی جائے ،محمد ھارو ن کا پریس کانفرنس 

لوکل گورنمنٹ کے اسسٹنٹ ڈائرکٹر فہیم الجلال کرڑوں روپے کے کرپشن میں ملوث ہے تحقیقات کی جائے ،محمد ھارو ن کا پریس کانفرنس 

چترال (نمائندہ آج) پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں نے چترال سے کرپشن کا خاتمہ کرنے کے لئے ;34;کرپشن فری چترال مومنٹ ;34; کا آغاز کردیا اوربدھ کے روز چترال پریس کلب میں لوکل گورنمنٹ کے اسسٹنٹ ڈائرکٹر فہیم الجلال پر ایک کروڑ 30لاکھ روپے کرپشن کا الزام عائد کیا اور کہاکہ انہوں نے ضلعے بھر کے 100یونین کونسلوں میں ڈسٹ بین اور شاپنگ بیگ کی خریدار ی یہ خطیر رقم استعمال کی لیکن قواعد وضوابط کو پس پشت ڈال دیا اور ٹینڈر طلب کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی جبکہ اس خریداری میں کوالٹی اور شفافیت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ تنظیم کے کنوینر محمد ہارون نے دیگر کارکنان زار بہار، محمد عادل، عبادالرحمن، رحیم اللہ، شفیق الاعظم، محبوب رحمن اوردوسروں کی معیت میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پچھلے سال لوکل گورنمنٹ نے ہر ویلج کونسل سے ایک لاکھ 60ہزار روپے وصول کرکے انہیں پلاسٹک کے پانچ ڈسٹ بین اور چند سو شاپنگ بیگ فراہم کردئیے جبکہ ان کا تخمینہ لگایا جائے تو ان پر کل خرچ 20سے 30ہزار روپے نکلاجبکہ اسسٹنٹ ڈائرکٹر فہیم الجلال نے اس مد میں ہر ویلج کونسل سے ایک لاکھ 60ہزار روپے وصول کئے اور یوں ضلعے کے سو ویلج کونسلوں سے مجموعی طور پرایک کروڑ 60روپے حاصل کی جوکہ خرد برد کے زمرے میں آتی ہے ۔ انہوں نے اسسٹنٹ ڈائرکٹر سے سوال کرتے ہوئے کہاکہ اتنی خطیر رقم کہاں خر چ ہوئی، کیا اس خطیر رقم کا ٹینڈر ہوا، ان کا ٹھیکہ دار کون تھا، ٹینڈر نوٹس کہا ں ہے اور کیا اتنے خطیر رقم خرچ کرتے وقت سارے قانونی و آئینی اصولوں کو مدنظر رکھا گیا ۔ انہوں نے مزید کہاکہ اس رقم کی وصولی کے باوجود اب تک ضلعے کے صرف پانچ ویلج کونسلوں کو یہ ڈسٹ بین اور شاپنگ بیگ مل گئے ہیں لیکن مذکورہ افسر ٹھیکہ داروں کے ساتھ ملی بھگت کرکے بڑے پیمانے پر کرپشن کی ہے ۔ انہوں نے وزیر اعظم عمران خان اور صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ چترال میں ہونے والے اس میگاکرپشن کے حوالے سے جے آئی ٹی تشکیل دے کر تحقیقات کی جائے جس میں انٹی کرپشن، نیب ، ایف آئی اے اور دوسرے تحقیقاتی اداروں پرمشتمل ہوتاکہ قومی خزانے پر ڈاکہ ڈالنے والوں کو بے نقاب کیا جاسکے اور کرپشن فری پاکستان اور چترال فری چترال کا قیام عمل میں آسکے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے