داد بیداد ……………ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی ………..چائنا شاپ  – Dadbedad Online

Breaking News

Home / مضامین / داد بیداد ……………ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی ………..چائنا شاپ 

داد بیداد ……………ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی ………..چائنا شاپ 

داد بیداد
ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی
چائنا شاپ
کھلو نو ں کی دکان کیلئے انگریزی میں ’’ چائنا شاپ ‘‘ کی تشبیہ استعمال ہو تی ہے اگر کوئی شخض چاروں طرف ہا تھ پاؤں مار کر پرانی چیزوں کو توڑ نے ، اور تر تیب سے رکھے ہوئے ساما ن کو ادھر اُدھر کرنے میں لگا ہوا ہو تو کہتے ہیں کہ کھلو نو ں کی دکان میں ہا تھی گھس گیا ہے انگریزی میں اس کے لئے ایک اور جملہ ہے آج کے دو اخبارات میں 6سر خیوں کو ایک ہی نشست میں پڑھنے کے بعد خیا ل آیا کہ ہمارے ہاں ایسا ہی منظر ہے ایک کا لمی خبر ہے کہ حکومت نے سر کاری سکو لوں کے لئے نصا بی کُتب چین سے چھپوا نے کا تہیہ کر لیا ہے اس طرح چھپائی کا معیار بہتر ہو گا، کاغذکا معیار بہتر ہو گا اور حکومت کو کتا بوں کی اشا عت کے اخراجا ت میں بھی بچت ہو گی دوسری خبر یہ ہے کہ حکومت نے قو می ائر لائن پی آئی اے کا خسارہ کم کرنے کے لئے کمیٹی قائم کی ہے کمیٹی پرانے فضائی راستوں پر اڑنے والے پر وازوں کو بند کرنے پر غور کریگی تا کہ تیل ،پائیلٹوں کے الاونسز اورہو ٹل کے اخراجات کا بوجھ کم ہو اندا زہ یہ ہے کہ پی آئی اے کی نصف سے زیا دہ سروس ختم ہو جائیگی اب غیر ملکی فضائی کمپنیاں ان راستوں پر اپنا کا روبار کرینگی ایک دو کالمی خبر ہے کہ خیبر یو نین آف جر نلسٹ نے اخبا رات سے بے دخل کئے گئے صحا فیوں کے ساتھ اظہار یک جہتی کے لئے 3اپریل کودھر نے کی دھمکی دی ہے اور صحا فیو ں کو بے دخل کرنے والے اخبارات کے اشتہارات بند کرنے کا مطا لبہ کیا ہے تصویر کا دوسرا رخ دکھا نے والوں نے لکھا ہے کہ گزشتہ 8مہینوں میں اخباری صنعت بر بادی سے دو چار ہو گئی ہے 50ہزار اخباری کار کنوں کو بے روز گار ی کا سامنا ہے شعبہ معیشت سے تعلق رکھنے والے کہتے ہیں کہ بینکنگ سیکٹر کا بحران اخباری صنعت کے بحران سے زیادہ سنگین ہے گزشتہ ششماہی میں پاکستان کے 5بڑے بینکوں نے بھی اپنے اہداف پورے نہیں کئے در میانہ اور چھوٹے در جے کے بینکوں کو شٹ ڈاون کے خطرے کا سامنا ہے بینکوں پر ایک طرف سے NABکی تلوار لٹک رہی ہے دوسری طرف سے قو می سلامتی کے ادارے اور تفتیش کار بینکوں میں ہونے والی تر سیلات کا پیچھا کر رہے ہیں پا کستانی بینک میں اکاونٹ کھو لنا امریکہ اور بر طانیہ کی شہریت لینے سے زیادہ مشکل ہو گیا ہے اگلے چھ مہینوں میں بینکنگ کا شعبہ بیٹھ جائے گا اس شعبے کے بے روز گار بھی اخباری صنعت سے نکالے گئے بے روز گاروں کی طرح دھر نا دینے کی کا ل دینے لگینگے ان باتوں کو پیشگوئی کے زمرے میں نہیں ڈالا جا سکتا کیونکہ ان کو نوشتہ دیوار کا درجہ حا صل ہو گیا ہے دو مزید خبریں نظر سے گذر ی ہیں ایک خبر ٹیکسٹا ئل انڈسٹری کی زبو ں حا لی کے حوا لے سے ہے دوسری خبر میں زر عی شعبے کی ابتری کی طرف اشارہ کیا گیا ہے غیر سر کاری تنظیموں کو بین الاقوامی ڈونر ایجنسیوں کی طرف سے ملنے والی 5ارب ڈالر امداد کے بند ہونے کا واویلا بھی ایک خبر کی صورت میں مو جو د ہے ایک ہی روز دو اخبارات کی چھ سات خبروں کو پڑھ کر ما یو سی کے بادل نظر آنے لگیں تو قیا س کیجئے کہ 6دنوں میں 5یا 10اخبارات کی سر خیاں پڑ ھ کر کتنی ما یو سی پھیلے گی اور کتنی تشویش لا حق ہو گی ان خبروں میں پہلی ایک کا لمی خبر سب سے زیادہ لائق توجہ اور سب سے بڑھ کر قابل غور ہے نصا بی کتابوں کی اشاعت کا کاروبار صرف صو بہ پنجاب کی حد تک 5ارب روپے کا حجم رکھتا ہے اگر پنجاب کی ما رکیٹ سے 5ارب روپے کا حجم والا کاروبار نکا ل کر پڑوسی ملک کو دے دیا گیا تو اس صنعت سے وا بستہ کتنے لوگ بے روز گار ہو جائینگے پا کستان کو محا صل کی مد میں کتنا نقصان ہو گا اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ حکومت سے کس نے مطا لبہ کیا ہے کہ در سی کتا بیں چین سے چھپوا نے کا اہتما م کیا جائے نیز یہ بھی ممکن ہے کہ اگلے دو سا لوں میں خیبر پختونخوا ، سند ھ اور بلو چستان کی در سی کتابوں کا 12ارب روپے حجم وا لا کاروبار بھی اُٹھا کر دوسرے ملک کو دیدیا جائے گا کرپشن کے خلاف ایسی مہم نہیں ہو تی بد عنوا نی کو ختم کرنے کے نام پر ملک کے اندر کاروبار کو تباہ نہیں کیا جا تا انقلابِ ایران کو ابھی 40سال ہو گئے ہیں 1979ء میں انقلاب آ یا تو انقلا بیوں کا منشور شاہ کے طرز حکمرانی کا با لکل اُلٹ تھا مگر انقلابی حکومت نے ملک کے کا روبار کو متا ثر نہیں کیا فروری میں اسلامی انقلاب آیا ، مئی کے مہینے میں ایران کی فلم انڈسٹری نے تین فلمیں ماسکو ، پیرس اور ہا لی وُڈ کے فلمی میلوں میں نما ئش اور مقا بلے کے لئے بھیج دیے میلوں میں انعا مات بھی لے لئے بحرکیسپین کی سا حل پر ’’ زیبا کنا ر ‘‘ کے نا م سے نئے شہر کا سنگ بنیاد شاہ کی ملکہ فرح دیبا پہلوی نے 1978میں رکھا تھا انقلاب کے بعد ایک دن کے لئے بھی کام کو نہیں رو کا گیا 1981ء میں شہر کی تعمیر مکمل ہو ئی ’’ تا لار جام جم ‘‘ کے باہر اب بھی ملکہ فرح دیبا پہلوی کے نا م کی تختی لگی ہوئی ہے انقلاب ایران کے بعد ایرانیوں نے کسی بھی شعبے میں کسی بھی مر حلے پر یہ محسوس نہیں کیا کہ کھلو نو ں کی دکان میں ہاتھی گھس آیا ہے یا انگریزی محا ورے کی رو سے چائنا شاپ کے اندر کوئی مست بیل گھُس گیا ہے جو ہر چیز کو توڑ رہاہے انقلاب اچھی چیز ہے بد عنوا نی کے خلاف مہم بھی بُری نہیں مگر ہر چیز کو توڑ نا ، ہر شعبے پر حملہ آور ہو نا ہمارے مفاد میں نہیں ہمیں نا دان دوستوں اور گمنام مشیروں سے ہو شیا ر رہنا چا ہئیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے